حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ سال بہار کے موسم میں پانچویں لڑائی کے بعد یمنی حکمرانوں نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا کہ شیعہ مجاہدین کی طاقت کا اندازہ لگانے میں ان سے تزویری غلطی Strategic Fault سرزد ہوئی تھی اور دنیا نے دیکھا کہ گذشتہ سال کی لڑائی میں حوثی مجاہدین نے صنعا کے نواح تک پیش قدمی کی تھی اور آخر کار حکومت نے قطر کی ثالثی قبول کرکے جنگ بندی کا اعلان کیا۔
تاہم گذشتہ برس کی لڑائی نے یمنی حکمرانوں کو نہیں بلکہ ریاض اور واشنگٹن کو جگادیا؛ مغرب نے سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں پر امریکہ مخالف حکومت کی تأسیس کا خطرہ محسوس کیا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ گذشتہ پانچ جنگوں میں حوثی مجاہدین کے مد مقابل یمنی حکمرانوں کی عاجزی نے جنوبی یمن کے شافعی مسلمانوں کو بھی اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کی جرأت عطا کی.
ان ایام میں شیعیان زیدی نے بڑی تعداد میں مجاہدین حوثیوں کی مدد کے لئے روانہ کئے ہیں اور اس طرح حوثیوں کو یکے بعد دیگرے بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور اس وقت صعدہ کے شہر کے سوا اس صوبے کے تمام علاقے حوثی مجاہدین کے زیر تسلط ہیں۔
اس سے بھی زیادہ دلچسپ امر یہ ہے کہ سعودی عرب کی مداخلت کے انکشاف کے بعد یمن کے اہل سنت عوام میں بھی حوثی مجاہدین کو وسیع مقبولیت حاصل ہوئی ہے کیونکہ یمن کے سنی بھی فکری حوالے سے شیعیان یمن کے بہت قریب ہیں اور مغرب و سعودی عرب سے نفرت کے حوالے سے وہ اہل تشیع سے کسی طور بھی کم نہیں ہیں۔
بہر حال یمنی افواج کی کمزوری اور اور شیعہ مجاہدین کے مقابلے میں ان کی مسلسل ناکامیوں کے باعث سعودی عرب نے اب بڑی جوابازی میں داخل ہوکر حوثی مجاہدین کے خلاف اعلانیہ جنگ کا آغاز کیا ہے اور یقینی طور پر سعودی عرب کی کامیابی یقینی نہیں ہے لیکن امر مسلم یہ ہے کہ یمن کے حوالے سے مغرب کی تشویش سعودی عرب میں آنے والی تبدیلیوں کی طرف لوٹتی ہے۔
بارک اوباما کی وہائٹ ہاؤس میں داخلے سے ایک روز قبل سائمن ہنڈرسن نے "واشنگٹن ریسرچ انسٹیٹیوت" کی رپورٹ ان کو پیش کردی جس میں اوباما کو سعودی عرب کے ساتھ معاملات کے حوالے سے متنبہ کیا گیا تھا۔
اس رپورٹ کے ایک حصے میں تأکید ہوئی ہے کہ "توقع کی جاتی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران سعودی عرب کا نظام حکومت وسیع تبدیلیوں سے دوچار ہوجائے گی اور اس مدت میں پانچ بادشاہ یکے بعد دیگرے اس ملک پر حکومت کریں گے"۔
قابل ذکر ہے کہ سیاسی معاملات کے ماہرین نے عرصہ قبل کہا ہے کہ سعودی عرب کے موجودہ بادشاہ کی موت کے بعد اس ملک کے شاہزادوں اور حکمران خاندان کے افراد کے درمیان اقتدار کی وسیع جنگ شروع ہوجائے گی۔ اس موضوع کی اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے کہ سعودی عرب کے اندر تبدیلیوں سے سب سے پہلے متأثر ہونے والا ملک یمن ہی ہوگا۔
چنانچہ مغرب مطمئن ہے کہ بادشاہ کی موت کے بعد سعودی عرب میں اقتدار کی جنگ لامحالہ شروع ہوگی اور اقتدار کی یہ جنگ جس سطح پر بھی ہو سعودی عرب کو ایک عرصے تک اندرونی مسائل میں مصروف کردے گی اور اس صورت حال کی وجہ سے علی عبداللہ صالح ـ شمال میں شیعہ باشندوں اور جنوب میں شافعی باشندوں کی سرکوبی کے سلسلے میں ـ تنہا رہ جائیں گے۔
گوکہ امریکہ بھی اپنی حد تک یمنی حکمرانوں کا پس پردہ حامی ہے مگر امریکی حمایت منکشف ہونے کی وجہ سے نہ صرف یمنی حکومت کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا بلکہ یمنی عوام کے امریکہ مخالف جذبات کے پیش نظر یہ مسئلہ علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خاتمے کو یقینی بنادے گا۔
یہی وہ مسئلہ ہے جس نے مغرب کو آمادہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو یمنی حکومت کی حمایت میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے پر مجبور کردے تا کہ نام نہاد "آہنی مکّے" (آئرن پنچ) نامی کاروائی کے ذریعے شیعہ مجاہدین کو کچل دے۔
تا ہم حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب نے صعدہ کے معرکے میں داخل ہوکر یمن کے شیعہ مجاہدین کے ہاتھوں یمنی فوج کو ہلاکت اور تباہی سے بچانے کے اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے گا بلکہ اسے یمن کے شمال سے لے کر اپنی سرزمین کی گہرائیوں تک اپنے اس اقدام کے نتائج بھگتنے ہونگے اور خطے کے ممالک کے عوام، خاص طور پر شیعیان اہل بیت (ع) بھی غیرجانبدار نہیں رہ سکیں گے۔ اور اب جبکہ سعودی عرب اور یمن کے دعووں کا کھوکھلاپن واضح ہوچکا ہے؛ بعید از قیاس نہیں ہے کہ حتی حج کے ایام میں بھی سعودی حکمرانوں کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے جبکہ یمن کے مستقبل میں بھی سعودی عرب کے مقام و منزلت کے بارے میں ابھی سے پیشین گویی کی جاسکتی ہے۔
ترجمہ: ف.ح.مہدوی